نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نمایاں پوسٹ

مریض کے دل کو سکون

مریض کے دل کو سکون  عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ  ( روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ )  پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے  ( کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے ). <<صحیح بخاری-5689>>

انسان ان چیزوں کو اپنی زندگی کے معاملات میں حصہ بنائے۔

انسان ان چیزوں کو اپنی زندگی کے معاملات میں حصہ بنائے۔
انسان ان چیزوں کو اپنی زندگی کے معاملات میں حصہ بنائے۔

انسان ان چیزوں کو اپنی زندگی کے معاملات میں حصہ بنائے یہ چیزیں ہیں:
1-اللہ کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللہ آپ کو یاد رکھے.
 "فاذکرونی اذکرکم"
ترجمہ : "تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا". (سورة البقرة: آیت 152)

 2- شکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے. 
"ولئن شكرتم لأزيدنكم"
ترجمہ : "اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا". (سورة إبراهيم :آیت 7) 
3- دعا کو نہ چھوڑیں ورنہ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے.
 "أدعوني أستجب لكم"
 ترجمہ : "تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا". (سورة غافر:آیت 60) 
4- استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے.
 "وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون" 
ترجمہ : "الله ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں". (سورة الأنفال :آیت 33)
اللہ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

تبصرے

مشہور پوسٹ

مریض کے دل کو سکون

مریض کے دل کو سکون  عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ  ( روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ )  پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے  ( کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے ). <<صحیح بخاری-5689>>

حج کرنے میں انسان کی غفلت

حج کرنے میں انسان کی غفلت انسان جب اللہ کی عبادت کا لطف و مزہ اٹھاتا ہے تواللہ اس کی عبادت   میں لطف اور عطا کرتا ہے اور اس کو مومن کی منزلوں سے ولیوں کے درجے تک پہنچاتا ہے۔اللہ اس کی عبادات کے ذریعے سے اس کے بخشش کا سامان بناتا ہے۔ اس لیے آج میں حج کی عبادت کا ذکر کروں گا جو صاحب استطاعت ایمان پرفرض ہے۔یہ عبادت ایک مشکت والی عبادت ہے،جومومن باخوبی سے ادا کرتے ہیں۔مگرآج میں ان لوگوں کی بات کروں گا جو اس عبادت کو بھی بہانہ بناکر اس عظیم عبادت کوخود محروم کرواتا ہے۔حتی کے رب العزت ان کو مال بہش بہا دیا ہوتا ہے مگر اس کو اپنے دنیاوی مشغلوں میں اس سے چھوڑ دیتے ہیں۔  یہ لوگ اپنے اولاد کا بہانہ بنا کر کہتے ہیں کہ جب تک میں اپنے اولاد کا شادی کا فریضہ ادا نہ کرلوں تب تک حج نہیں کرسکتا ۔یہ سب غلط فہمی ہے جب حج فرض ہوجاتا ہے۔ اس کے بارے میں ایک حدیث مبارک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس میں ان کے بارے میں وعید ہے جو حج مبارک ادا نہ کرے البتہ کوئ بیماری کی وجہ سے ادا نہیں کرتا۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: " حج کی استطاعت رکھنے والے کو نہ کوئ ظاہری ضرورت روک رہ...