مریض کے دل کو سکون عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ ( روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ ) پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے ( کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے ). <<صحیح بخاری-5689>>
حج کرنے میں انسان کی غفلت
انسان جب اللہ کی عبادت کا لطف و مزہ اٹھاتا ہے تواللہ اس کی عبادت میں لطف اور عطا کرتا ہے اور اس کو مومن کی منزلوں سے ولیوں کے درجے تک پہنچاتا ہے۔اللہ اس کی عبادات کے ذریعے سے اس کے بخشش کا سامان بناتا ہے۔
اس لیے آج میں حج کی عبادت کا ذکر کروں گا جو صاحب استطاعت ایمان پرفرض ہے۔یہ عبادت ایک مشکت والی عبادت ہے،جومومن باخوبی سے ادا کرتے ہیں۔مگرآج میں ان لوگوں کی بات کروں گا جو اس عبادت کو بھی بہانہ بناکر اس عظیم عبادت کوخود محروم کرواتا ہے۔حتی کے رب العزت ان کو مال بہش بہا دیا ہوتا ہے مگر اس کو اپنے دنیاوی مشغلوں میں اس سے چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ لوگ اپنے اولاد کا بہانہ بنا کر کہتے ہیں کہ جب تک میں اپنے اولاد کا شادی کا فریضہ ادا نہ کرلوں تب تک حج نہیں کرسکتا ۔یہ سب غلط فہمی ہے جب حج فرض ہوجاتا ہے۔
اس کے بارے میں ایک حدیث مبارک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس میں ان کے بارے میں وعید ہے جو حج مبارک ادا نہ کرے البتہ کوئ بیماری کی وجہ سے ادا نہیں کرتا۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:
"حج کی استطاعت رکھنے والے کو نہ کوئ ظاہری ضرورت روک رہی ہو، نہ کوئ ظالم بادشاہ اس کی راہ میں روکاوٹ ڈال رہا ہو اور نہ ہی کوئ روکنے والی بیماری اسے لاحق ہو،لیکن پھر بھی حج کیے بغیر مرجائے تو وہ کی نہیں بلکہ یہودی کی موت مرے گا یا نصرانی"
تو ہمیں اس سے فریضے کے طور پرادا کرنا چاہیئے اور اس کو نعمت سمجھنا چاہیئے کیونکہ اللہ نے آپ کو خانہ کعبہ کا دیدار کرنے کا موقع دیا۔بہت سے لوگ اس کے لیے ترستے ہیں۔
دعا:
اللہ ہمیں اس فریضے پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرماءیں
آمین
اس لیے آج میں حج کی عبادت کا ذکر کروں گا جو صاحب استطاعت ایمان پرفرض ہے۔یہ عبادت ایک مشکت والی عبادت ہے،جومومن باخوبی سے ادا کرتے ہیں۔مگرآج میں ان لوگوں کی بات کروں گا جو اس عبادت کو بھی بہانہ بناکر اس عظیم عبادت کوخود محروم کرواتا ہے۔حتی کے رب العزت ان کو مال بہش بہا دیا ہوتا ہے مگر اس کو اپنے دنیاوی مشغلوں میں اس سے چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ لوگ اپنے اولاد کا بہانہ بنا کر کہتے ہیں کہ جب تک میں اپنے اولاد کا شادی کا فریضہ ادا نہ کرلوں تب تک حج نہیں کرسکتا ۔یہ سب غلط فہمی ہے جب حج فرض ہوجاتا ہے۔
اس کے بارے میں ایک حدیث مبارک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس میں ان کے بارے میں وعید ہے جو حج مبارک ادا نہ کرے البتہ کوئ بیماری کی وجہ سے ادا نہیں کرتا۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم:
"حج کی استطاعت رکھنے والے کو نہ کوئ ظاہری ضرورت روک رہی ہو، نہ کوئ ظالم بادشاہ اس کی راہ میں روکاوٹ ڈال رہا ہو اور نہ ہی کوئ روکنے والی بیماری اسے لاحق ہو،لیکن پھر بھی حج کیے بغیر مرجائے تو وہ کی نہیں بلکہ یہودی کی موت مرے گا یا نصرانی"
تو ہمیں اس سے فریضے کے طور پرادا کرنا چاہیئے اور اس کو نعمت سمجھنا چاہیئے کیونکہ اللہ نے آپ کو خانہ کعبہ کا دیدار کرنے کا موقع دیا۔بہت سے لوگ اس کے لیے ترستے ہیں۔
دعا:
اللہ ہمیں اس فریضے پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرماءیں
آمین

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں