مریض کے دل کو سکون عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ ( روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ ) پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے ( کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے ). <<صحیح بخاری-5689>>
اپنے بھائ کو گوڑے پر سوار دیکھنا

حضرت سیدنا یحمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرا بھائ باوجود غربت کے یغی غریب تھا لیکن رضائ الہی کی نیت کے ساتھ ہر سال بکرا عید میں قربانی کردیا کرتا تھا۔
اس کے بھائ کے انتقال کے بعد اس نے خواب دیکھا کہ قیامت طاری ہوگئ لوگ اپنی قبروں سے نکل آئے ہیں میں نے دیکھا کہ اچانک میرا بھائ بھی گھوڑے پر سوار نظر آیا اور گھوڑا اچت کبرہ اور بہت خوبصورت تھا۔اور اس کے ساتھ اور بہت سارے بھی گوڑے تھے۔میں نے پوچھا:
"يااخي مافعاالله تعالي بقه"
ترجمعہ:اے میرے بھائ اللہ تعالی نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا۔
تو بھائ کہنے لگا کہ اللہ تعالی نے مجھے بخش دیا تو میں نےپوچھا:
کس عمل کے سبب ؟
" تو اس نے کہا میں نے ایک دن کسی بڑھیا کو بانیت ثواب ایک درہم دیا تھا وہ وہی میرے کام آگیا۔"
تووہ خواب میں تھے کہنے لگا: کہ یہ گھوڑا اور اتنی سواریاں کہاں سے آگئ یہ کیا ہے!
تو اس نے کہا کہ" یہ سب میری بکرا عید کی قربانیاں ہیں اور میں جس پر سوار ہوں یہ میری سب سے پہلی قربانی کا ہے"۔
اب بھائ نے کہا کہ" کدھر کا ارادہ ہے اور کہا جارہے ہو۔"
بھائ نے کہتا ہے کہ میرا جو ارادہ ہے یغنی عزم ہے جنت اورسواری پر سوار ہو کر نظروں سے گویا اوجھل ہوگیا
"اپنے بھائ کو گوڑے پر سوار دیکھنا" کے واقعہ کا مقصد: ہمیں ہر نیک کام نیت ثواب کرنا چاہیئے نہ کہ بس عمل ہی ہو۔دوسرا کہ ہمیں مال میں صدقہ کرنا چاہیئے۔کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ عمل ہماری بخشش کا سامان بن جائے اور ہمیں چاہیے کہ ہم قربانی کرے قربانی تاکہ یہ گوڑے کی طرح پل صرات کو پار کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ اللہ ہمیں اس پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ "آمین"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں