نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نمایاں پوسٹ

مریض کے دل کو سکون

مریض کے دل کو سکون  عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ  ( روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ )  پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے  ( کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے ). <<صحیح بخاری-5689>>

عرش کا سایہ پانے وانے خوش نصیب


عرش کا سایہ پانے وانے خوش نصیب
عرش کا سایہ پانے والے خوش نصیب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:                 
”سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا جبکہ اس کے عرش کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ عادل حاکم، نوجوان جس نے اللہ کی عبادت میں جوانی پائی، ایسا شخص جس نے اللہ کو تنہائی میں یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، وہ شخص جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے، وہ آدمی جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، وہ شخص جسے کسی بلند مرتبہ اور خوبصورت عورت نے اپنی طرف بلایا اور اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جس نے اتنا پوشیدہ صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چل سکا کہ دائیں نے کتنا اور کیا صدقہ کیا ہے۔"«صحیح بخاری-6806»
عرش کا سایہ پانے وانے خوش نصیب کی وضاحت:
اس حدیث مبارک میں سات بندوں کا ذکر کیا گیا۔
1۔عادل حکمران                                            
2۔جوانی میں عبادت کرنے والا
3۔ اللہ کی یاد میں رونے والا
4۔وہ بندہ جس کا لگاو مسجد سے ہو 
5۔جو اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔
6۔وہ شخص جو بدکاری کا عمل کرنے سے روک جائے کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور خوبصورت عورت گناہ کی طرف بلائیں اور کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرا 
ہوں۔
7۔صدقہ کرنے والا جو دکھوا نہ کرے
ان کے بارے میں اللہ عزوجل کے عرش کا سایہ ان پر ہوگا۔تو ہم اپنے بارے میں دیکھے کہ ہم کس جگے پر آتے ہیں اللہ ہم پر رحم فرمائ۔ آمین

تبصرے

مشہور پوسٹ

مریض کے دل کو سکون

مریض کے دل کو سکون  عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ  ( روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ )  پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے  ( کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے ). <<صحیح بخاری-5689>>

حج کرنے میں انسان کی غفلت

حج کرنے میں انسان کی غفلت انسان جب اللہ کی عبادت کا لطف و مزہ اٹھاتا ہے تواللہ اس کی عبادت   میں لطف اور عطا کرتا ہے اور اس کو مومن کی منزلوں سے ولیوں کے درجے تک پہنچاتا ہے۔اللہ اس کی عبادات کے ذریعے سے اس کے بخشش کا سامان بناتا ہے۔ اس لیے آج میں حج کی عبادت کا ذکر کروں گا جو صاحب استطاعت ایمان پرفرض ہے۔یہ عبادت ایک مشکت والی عبادت ہے،جومومن باخوبی سے ادا کرتے ہیں۔مگرآج میں ان لوگوں کی بات کروں گا جو اس عبادت کو بھی بہانہ بناکر اس عظیم عبادت کوخود محروم کرواتا ہے۔حتی کے رب العزت ان کو مال بہش بہا دیا ہوتا ہے مگر اس کو اپنے دنیاوی مشغلوں میں اس سے چھوڑ دیتے ہیں۔  یہ لوگ اپنے اولاد کا بہانہ بنا کر کہتے ہیں کہ جب تک میں اپنے اولاد کا شادی کا فریضہ ادا نہ کرلوں تب تک حج نہیں کرسکتا ۔یہ سب غلط فہمی ہے جب حج فرض ہوجاتا ہے۔ اس کے بارے میں ایک حدیث مبارک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس میں ان کے بارے میں وعید ہے جو حج مبارک ادا نہ کرے البتہ کوئ بیماری کی وجہ سے ادا نہیں کرتا۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: " حج کی استطاعت رکھنے والے کو نہ کوئ ظاہری ضرورت روک رہ...