نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

نمایاں پوسٹ

مریض کے دل کو سکون

مریض کے دل کو سکون  عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ  ( روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ )  پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے  ( کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے ). <<صحیح بخاری-5689>>

حضرت زینب رضی اللہ عنہ کے گلے کا ہار اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسوں مبارک کا آنا

حضرت زینب رضی الللہ عنہ کے گلے کا ہار اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسوں مبارک کا آنا


آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد،آپ کی پیاری بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے شوہر،جب بدر سے قید ہو کر آے،تو فدیے کی رقم ادا نہ کر سکے،تو گھر کہلا بھیجا۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے جہیز میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کو دیا تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہار دیکھا،تو بے تاب ہوگئے اور آنکھوں سے آنسوں نکل آئے۔پھر صحابہ رضی اللہ عنھم سے فرمایا:
"کہ اگر تمہاری مرضی ہو،تو ہار زینب رضی اللہ عنہاکو بھیج دوں۔"سب نے بسر چشم منظورکیا۔
سبق:
اس سے ہم میں سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے اولاد پر رحم کرنا چاہیئے۔مگر اس کے ساتھ ساتھ عادل اور دوسرے ماتحد سے پوچھ کر فیصلے کرنا چاہیئے۔جیسا کہ آپ نے زینب رضی اللہ عنہ کو ہار واپس کرنے سے پہلے آپ نے صحابہ اکرام سے پوچھا اور یہ عادل کا تقاضہ ہے۔اللہ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

تبصرے

مشہور پوسٹ

مریض کے دل کو سکون

مریض کے دل کو سکون  عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ  ( روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ )  پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے  ( کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے ). <<صحیح بخاری-5689>>

حج کرنے میں انسان کی غفلت

حج کرنے میں انسان کی غفلت انسان جب اللہ کی عبادت کا لطف و مزہ اٹھاتا ہے تواللہ اس کی عبادت   میں لطف اور عطا کرتا ہے اور اس کو مومن کی منزلوں سے ولیوں کے درجے تک پہنچاتا ہے۔اللہ اس کی عبادات کے ذریعے سے اس کے بخشش کا سامان بناتا ہے۔ اس لیے آج میں حج کی عبادت کا ذکر کروں گا جو صاحب استطاعت ایمان پرفرض ہے۔یہ عبادت ایک مشکت والی عبادت ہے،جومومن باخوبی سے ادا کرتے ہیں۔مگرآج میں ان لوگوں کی بات کروں گا جو اس عبادت کو بھی بہانہ بناکر اس عظیم عبادت کوخود محروم کرواتا ہے۔حتی کے رب العزت ان کو مال بہش بہا دیا ہوتا ہے مگر اس کو اپنے دنیاوی مشغلوں میں اس سے چھوڑ دیتے ہیں۔  یہ لوگ اپنے اولاد کا بہانہ بنا کر کہتے ہیں کہ جب تک میں اپنے اولاد کا شادی کا فریضہ ادا نہ کرلوں تب تک حج نہیں کرسکتا ۔یہ سب غلط فہمی ہے جب حج فرض ہوجاتا ہے۔ اس کے بارے میں ایک حدیث مبارک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جس میں ان کے بارے میں وعید ہے جو حج مبارک ادا نہ کرے البتہ کوئ بیماری کی وجہ سے ادا نہیں کرتا۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: " حج کی استطاعت رکھنے والے کو نہ کوئ ظاہری ضرورت روک رہ...